فلسطین کی قانونی حکومت کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے غزہ پٹی کو ممنوعہ ہتھیاروں کے تجربے کے مرکز میں تبدیل کردیا ہے۔ فلسطین کے نائب وزیر صحت حسن خلف نے گزشتہ شب العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ صہیونی ریاست نے آٹھ ماہ قبل غزہ پر اپنے بائيس روزہ حملوں میں سفید فاسفورس کو استعمال کیا اور اس علاقے میں معذور بچوں کی پیدائش اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ حسن خلف نے مزید کہا کہ صہیونی ریاست نے نو سال کے عرصے سے اور انتفاضہ تحریک کے آغاز سے ہی غزہ پٹی کو ممنوعہ ہتھیاروں کے تجربات کے مرکز میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ فلسطین کی قانونی حکومت کے نائب وزیر صحت حسن خلف نے مزید کہا کہ صہیونی ریاست فلسطینی جوانوں کو شدید زخمی کرتی ہے اور پھر بعض تجربات کے لۓ ان کو مقبوضہ فلسطین میں منتقل کردیتی ہے۔ بعض رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینی شہداء اور زخمیوں پر خطرناک اور کیمیاوی ہتھیاروں کے تجربات کرتی ہے۔ بہرحال صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ پٹی پر کۓ جانے والے بائيس روزہ حملوں میں جنگي جرائم کے ثابت ہونے کے بعد صہیونی مجرموں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلاۓ جانے کے امکان میں تقویت پیدا ہوگئي ہے حتی کہ اس سلسلے میں ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے ایک جج نے ڈیوڈ بنیامین نامی صہیونی افسر کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168288
صہیونی ریاست نے آٹھ ماہ قبل غزہ پر سفید فاسفورس کو استعمال کیا اور اس علاقے میں معذور بچوں کی پیدائش اس حقیقت کا منہ بولتا ہوا ثبوت ہے ۔